غروب آفتاب سے پہلے میدان عرفات سے چلے جانے کاحکم
سوال
9 ذی الحجہ کو عرفات کے میدان سے سورج ڈوبنے سے پہلے نکل گیا تو دم آئے گایا پھرصدقہ لازم ہو گا؟
جواب
وقوفِ عرفہ کا وقت زوال آفتاب سے غروبِ آفتاب تک کا ہے،اس دوران حاجی کے لیے عرفات کی حدود کے اندر رہناواجب ہے ،اگر کوئی حاجی غروبِ آفتاب سے پہلےعرفات کے حدود سے نکل جائے تو ترکِ واجب کی وجہ سے اس پردم واجب ہو گا،ہاں اگر دوبارہ واپس آکر غروبِ آفتاب تک رہے گاتودم ساقط ہوجائے گا۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما القدر الواجب من الوقوف: فمن حين تزول الشمس إلى أن تغرب فهذا القدر من الوقوف واجب عندنا...وإن جاوزها قبل الغروب فعليه دم عندنا لتركه الواجب فيجب عليه الدم كما لو ترك غيره من الواجبات."
(كتاب الحج،فصل طواف الزيارة،ج،2، ص 127، ط:دارالکتب العلمیة)
فقط والله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

