بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غروب آفتاب سے پہلے میدان عرفات سے چلے جانے کاحکم

سوال

9 ذی الحجہ کو عرفات کے میدان سے سورج ڈوبنے سے پہلے نکل گیا تو دم آئے گایا پھرصدقہ لازم ہو گا؟

جواب

وقوفِ عرفہ کا وقت زوال آفتاب سے  غروبِ آفتاب تک کا ہے،اس دوران حاجی کے لیے  عرفات کی  حدود کے  اندر رہناواجب ہے ،اگر کوئی حاجی غروبِ آفتاب سے پہلےعرفات کے حدود سے نکل جائے تو ترکِ واجب کی وجہ سے اس پردم واجب ہو گا،ہاں اگر دوبارہ واپس  آکر غروبِ آفتاب تک رہے گاتودم ساقط ہوجائے گا۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما القدر الواجب من الوقوف: فمن حين تزول الشمس إلى أن تغرب فهذا القدر من الوقوف واجب عندنا...وإن جاوزها قبل الغروب فعليه دم عندنا لتركه الواجب فيجب عليه الدم كما لو ترك غيره من الواجبات."

(كتاب الحج،فصل طواف الزيارة،ج،2، ص 127، ط:دارالکتب العلمیة)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411100922
تاریخ30-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں