بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فجر كی نماز كی قضا

سوال

فجر کی نماز بہت بار قضا ہوگئی ہے ،کیاقضا پڑھنے سے نماز معاف ہو جاتی ہے؟

جواب

 صورت مسئولہ میں قضاء نماز پڑھنے سے  ذمے سےساقط ہوجاتی ہے، البتہ  بھول یا شرعی  عذر کی وجہ سے وقت پر نماز ادا نہ کرنے پر مؤاخذہ  نہیں ہوگا، لیکن  جان بوجھ کر نماز کو وقت پر نہ پڑھے تو یہ بڑا گناہ ہے، اس کے لیے توبہ ضروری ہے۔ 

البحرالرئق میں ہے۔

"فالأصل فیه أن کل صلاة فاتت عن الوقت بعد ثبوت وجوبها فیه فإنه یلزم قضاؤها، سواء ترکها عمداً أو سهواً أو بسبب نوم، وسواء کانت الفوائت قلیلةً أو کثیرةً".

(البحرالرائق، باب قضاء الفوائت ج:2، ص:141 ط: دار الکتاب الإسلامی)

بدایۃالمجتہدمیں ہے:

"وأما ‌تاركها ‌عمدا حتى يخرج الوقت، فإن الجمهور على أنه آثم، وأن القضاء عليه واجب."

(بدایۃ المجتهد، قضاء جملة الصلاۃ، الباب فی قضاء الصلاۃ، ج:1، ص:193، ط: دار الحدیث)

والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411100905
تاریخ30-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں