بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والد کے مشکوک پیسوں سے کاروبار

سوال

والد کے پیسوں پر کاروبار کرنا کیسا ہے جب کہ والد کی آمدنی کے حلال یا حرام کا پتہ نہ ہو؟

جواب

شریعت شک کی بنیاد پر حکم نہیں لگاتی ہے اور نہ شک و تجسس کو جائز قرار دیتی ہے، اگر والد پر حسنِ ظن رکھ سکتے ہیں تو پھر ان پیسوں  سے کاروبار کرلیں، بصورتِ دیگر تحقیق کرلیں کہ حلال ہے یا حرام۔  اگر حرام ہوں تو پھر اس رقم کو استعمال میں لانا جائز نہیں۔

غمز عیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر میں ہے:

"وينبغي أن ترى الأشياء حلالا في أيدي الناس في ظاهر الحكم ما لم يتبين لك شيء مما وصفنا."

(غمز عیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر، إذا اجتمع الحلال والحرام غلب الحرام، 345/1، دارالکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411100873
تاریخ30-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں