بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اللہ اکبر کے بجائے اللہ اکبار پڑھنے پر نماز کا حکم

سوال

نماز میں اگر امام صاحب، اللہ اکبر کے بجائے اللہ اکبر، "اکبر" کی "با" کو "مد "کے ساتھ یا "ا" کے ساتھ پڑھ  لیں تو کیا اس سے نماز  ہوجاۓگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں" أكبر"کی "ب" کو"  مد" یا "الف "کے ساتھ کھینچ کر "الله أكبآر" یا" اللہ أكبار"پڑھنے سے بہر حال نماز فاسد ہوجاۓ گی اور اس نماز کا اعادہ لازم ہوگا۔

المحیط البرھانی میں ہے:

"فقد ذكر القدوري رواية عن أبي حنيفة أيضاً أنه كره الافتتاح إلا بقوله؛ ‌الله ‌أكبر و لو قال: أكبار لايصير شارعاً، و لو قال هكذا في خلال الصلاة تفسد صلاته."

(كتاب الصلاة،‌‌الفصل الرابع في كيفيتها،293/1،ط:دارالکتب العلمیة)

البحر الرائق میں ہے:

"و في المبسوط: ‌لو ‌مد ألف "الله" لايصير شارعًا، و خيف عليه الكفر إن كان قاصدًا، و كذا ‌لو ‌مد ألف "أكبر" أو باءه لايصير شارعًا؛ لأن أكبار جمع كبر، و هو الطبل، و قيل: اسم للشيطان."

(كتاب الصلاة،باب صفة الصلاة،332/1،ط:دار الكتاب الإسلامي)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411100839
تاریخ29-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں