بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں ابوابا کی جگہ سرابا پڑھا

سوال

نماز میں قراءت کی" إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كانَ مِيقاتاً . يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْواجاً . وَفُتِحَتِ السَّماءُ فَكانَتْ أَبْواباً ."یہاں "أَبْواباً"کی جگہ "سَراباً"پڑھا آیا نماز ہوئی کہ نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں" فَكانَتْ أَبْواباً" کی جگہ "فَكانَتْ سَراباً" پڑھنے سے معنی میں تغیر فاحش نہیں ہوا لہذا نماز درست ہوگئی ہے ،البتہ آئندہ اچھی طرح یاد کر کے قراءت کرنے کی کوشش کرے۔

فتاوی عالمگیر ی میں ہے:

"(ومنها) ذكر كلمة مكان كلمة على وجه البدل إن كانت الكلمة التي قرأها مكان كلمة يقرب معناها وهي في القرآن لا تفسد صلاته نحو إن قرأ مكان العليم الحكيم.......وإن كان في القرآن ولكن لا تتقاربان في المعنى نحو إن قرأ وعدا علينا إنا كنا غافلين مكان فاعلين ونحوه مما لو اعتقده يكفر تفسد عند عامة مشايخنا وهو الصحيح من مذهب أبي يوسف رحمه الله تعالى هكذا في الخلاصة."

(کتاب الصلوۃ , الفصل الخامس فی زلة القاري جلد 1 ص: ۸۰ ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411100808
تاریخ29-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں