بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عدد کے ذریعہ نام رکھنا

سوال

میر بیٹی پیدا ہوئی ہے ، اس کے نام کا عدد بتادیں ،میں نے اپنی بیٹی کانام آئزل رکھا تھا،مگر اس کا مطلب ٹھیک نہیں ہے،تو میں اس کا نام تبدیل کرنا چاہتاہوں ،تو کس حرف سے نام رکھوں ؟

 

جواب

حروف نکال کربچے کے نام کے حروف کے اعداد اور تاریخ پیدائش کے اعداد کو آپس میں ملاکر نام رکھنے کا طریقہ از رُوئے شرع درست نہیں ہے، بچی کا نام تجویز کرنے کا صحیح اسلامی طریقہ یہ ہے: کہ بچی کا نام ازواجِ مطہرات، بناتِ طیّبات، صحابیات رضی اللہ عنہن کے ناموں میں سے کسی کے نام پر  رکھا جائے جو افضل ہونے کے ساتھ ساتھ باعثِ  برکت بھی ہے، یا کوئی بھی معلوم المعنی، مناسب نام رکھاجائے۔

تفسیرِ معارف القرآن  (مفتی محمد شفیعؒ) میں ہے:

"افسوس ہے کہ آج کل عام مسلمان اس غلطی میں مبتلا ہیں،  کچھ لوگ تو وہ ہیں جنہوں نے اسلامی نام ہی رکھنا چھوڑ دیے، ان کی صورت و سیرت سے تو پہلے بھی مسلمان سمجھنا ان کا مشکل تھا، نام سے پتا چل جاتا تھا، اب نئے نام انگریزی طرز کے رکھے جانے لگے، لڑکیوں کے نام خواتینِ اسلام کے طرز کے خلاف خدیجہ، عائشہ، فاطمہ کے بجائے نسیم،شمیم، شہناز، نجمہ، پروین ہونے لگے۔

اس سے زیادہ افسوس ناک یہ ہے کہ جن لوگوں کے اسلامی نام ہیں: عبدالرحمٰن، عبدالخالق، عبدالرزّاق، عبدالغفار، عبدالقدوس وغیرہ ان میں تخفیف کا یہ غلط طریقہ اختیار کرلیا گیا کہ صرف آخری لفظ ان کے نام کی جگہ پکارا جاتا ہے رحمٰن، خالق، رزّاق، غفار کا خطاب انسانوں کو دیا جارہا ہے۔ اور اس سے زیادہ غضب کی بات یہ ہے کہ ’’قدرت اللہ‘‘ کو ’’اللہ صاحب‘‘  اور ’’قدرت خدا‘‘  کو ’’خدا صاحب‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہ سب ناجائز و حرام اور گناہِ کبیرہ ہے، جتنی مرتبہ یہ لفظ پکارا جاتا ہے اتنی ہی مرتبہ گناہِ کبیرہ کا ارتکاب ہوتا ہے، اور سننے والا بھی گناہ سے خالی نہیں رہتا۔"

(معارف القرآن، ج:4، ص:132، ط:معارف القرآن کراچی)

 ہماری ویب سائٹ پر بھی بہت سے اچھے معنی والے نام دیکھے جاسکتے ہیں ،لنک پر کلک کر کے ملاحظہ کرلیں ۔

اسلامی نام

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411100729
تاریخ28-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں