بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اجنبیہ عورت کو بہن کہنے کاحکم

سوال

اگر کسی نامحرم عورت کو بہن کہا جائے تو وہ نا محرم ہی رہتی ہے ، لیکن اس کے ساتھ نکاح کرنے یا کسی قسم کے بغیر ضرورت کی گفتگو نہ کیا جائے،تو بہن بولنا جائز ہے؟

جواب

نامحرم عورت کو ضرورت کے وقت بات چیت کے موقع پربہن کہہ کر مخاطب کرسکتے ہیں، البتہ کسی نامحرم عورت کو منہ بولی بہن بناکر اس سے حقیقی بہن کی طرح گھل مل کر رہنادرست نہیں ہے، بہن بولنے کے باوجود وہ شرعاً نامحرم اجنبیہ ہی رہے گی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"نجيز ‌الكلام ‌مع النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك."

(كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، مطلب في ستر العورة، ج:١، ص:٤٠٦، ط:دار الفكر بيروت)

التفسیر للواحدی میں ہے:

"فأنزل الله هذه الآية إبطالا لما قالوا، تكذيبا لهم أنه ابنه، وإخبارا أن الدعي لا يكون ابنا، وقوله: {ذلكم ‌قولكم ‌بأفواهكم} [الأحزاب: 4] أي: ادعاءكم نسب من لا حقيقة لنسبه، قول بالفم لا حقيقة له."

(ج:3، ص:458، ط:دار الكتب العلمية بيروت)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وقد روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه قال «‌لا ‌يخلون رجل بامرأة فإن ثالثهما الشيطان» وإن كانت المرأة ذات رحم محرم منه فلا بأس بالخلوة والأفضل أن لا يفعل لما روي عن عبد الله بن مسعود - رضي الله عنهما - أنه قال ما خلوت بامرأة قط مخافة أن أدخل في نهي النبي - عليه الصلاة والسلام."

(كتاب الاستحسان، ج:٥، ص:١٢٥، ط:دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411100724
تاریخ28-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں