بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

'بیوی کو چھوڑ دو' کہنے سے طلاق کا حکم

سوال

علی کی ساس نے کہا کہ بیوی کو چھوڑ دو،  علی سمجھا کہ وہ کہہ رہی ہے کہ تین دن کے لیے ماں کے گھر رہنے دو،  جبکہ وہ طلاق کا مطالبہ کر رہی تھی، اس پر علی نے کہا ٹھیک ہے،  کیا علی کی طلاق ہوگئی؟  جبکہ علی کی نیت ایسی نہ تھی۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں   ان الفاظ سے علی کی بیوی پرکوئی طلاق  واقع نہ ہوئی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ما لم يوضع له)  أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب."

(کتاب الطلاق، باب الکنایات، ج:3، ص:300، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411100706
تاریخ28-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں