بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قسم کا کفارہ

سوال

ایک مہینے تک کسی دوست نے قسم دلا دی کہ فلاں کے گھر نہیں جانا،  میں نے قسم کھالی پھر  کچھ دن بعد ان دونوں کے درمیان جو ناچاقی تھی وہ ختم ہوئی ، تو دوست نے مجھے کہا اب اس کے گھر جاسکتے ہو ۔ اب سوال یہ ہے کہ میں ایک مہینہ پورا ہونے سے پہلے اس فلاں کے گھر جاسکتا ہوں یا نہیں ؟

جواب

 صورتِ مسئولہ میں ایک مہینہ پوراہونے سے پہلے دوست کے گھر جانے سے قسم ٹوٹ جائے گی اور  قسم کا کفارہ لازم ہوگا۔قسم کا کفارہ یہ ہے کہ  دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلا دے یا دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو صدقۃ الفطر کی مقدار کے بقدر گندم یا اس کی قیمت دے دے( یعنی پونے دو کلو گندم یا اس کی رقم )یا دس فقیروں کو  ایک ایک جوڑا کپڑا دے دے،اور اگر  نہ تو کھانا کھلا سکتا ہے اور نہ کپڑا دے سکتا ہے تو مسلسل تین روزے رکھے ۔

قرآن کریم میں ہے:

"﴿ لا يُؤاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمانِكُمْ وَلكِنْ يُؤاخِذُكُمْ بِما عَقَّدْتُمُ الْأَيْمانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعامُ عَشَرَةِ مَساكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ذلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمانِكُمْ إِذا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمانَكُمْ كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آياتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾"

"ترجمہ:اللہ تعالی مؤاخذہ نہیں فرماتے،تمہاری قسموں میں  لغو قسم پر لیکن مؤاخذہ اس پر فرماتےہیں کہ تم قسموں کو مستحکم کرو،سو اس کا کفارہ دس محتاجوں کو کفارہ دینا اوسط درجہ کا،جو تم اپنے گھر والوں کو دیا کرتے ہو،یا ان  کو کپڑا دینا یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرناجس کو مقدور نہ ہو تو تین دن کے روزے ہیں۔(بیان القرآن)"

فتاوی عالمگیری میں ہے:

" الفصل الثاني في الكفارة: وهي أحد ثلاثة أشياء إن قدر عتق رقبة يجزئ فيها ما يجزئ في الظهار أو كسوة عشرة مساكين لكل واحد ثوب فما زاد وأدناه ما يجوز فيه الصلاة أو إطعامهم والإطعام فيها كالإطعام في كفارة الظهار هكذا في الحاوي للقدسي .وعن أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى إن أدنى الكسوة ما يستر عامة بدنه حتى لا يجوز السراويل وهو صحيح كذا في الهداية . فإن لم يقدر على أحد هذه الأشياء الثلاثة صام ثلاثة أيام متتابعات."

(كتاب الطلاق، الفصل الثاني في الكفارة، ج:2، ص:61، ط:رشيدية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411100699
تاریخ28-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں