بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیڈ یا پلنگ پر سونا

سوال

شمائل کبری میں لکھا ہے کہ چارپائی پر سونا سنت ہے تو کیا بیڈ یا پلنگ پر سونے سے سنت ادا ہوجاتی ہے یا نہیں؟

جواب

آپ صلی اللہ علیہ  وسلم  سے بستر ،کھجور کے درخت کی چھال،چٹائی ،زمین ،چارپائی وغیرہ پر سونا ثابت ہے،لہذا پلنگ یا بیڈ  پر سونے سے سنت ادا ہوجائے گی ۔

وفي زاد المعاد في هدي خير العباد :

"فصل في هديه وسيرته صلى الله عليه وسلم في نومه وانتباهه كان ينام على الفراش تارة، وعلى النطع تارة، وعلى الحصير تارة، وعلى الأرض تارة، وعلى السرير تارة بين رماله وتارة على كساء أسود."

 (1/149،ط:مؤسسة الرسالة، بيروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411100657
تاریخ28-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں