بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آپ اپنے راستے میں اپنے راستے کہنے سے طلاق کا حکم

سوال

کیا شوہر کا بحث کے دوران یہ کہنا کہ' آپ اپنے راستے میں اپنے راستےاب سوچ لیں' کیا اس سے نکاح قائم رہتا ہے؟ اور کیا احکام ہیں؟  شادی کو 5مہینے ہونے والے ہیں میاں بیوی نماز روزے کے پابند اور اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔ مدد فرمادیں!

جواب

صورتِ  مسئولہ میں  شوہر  کا اپنی بیوی  کو یہ کہنے سے کہ "آپ اپنے راستے میں اپنے راستےاب سوچ لیں" کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

 فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي.

وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره، وكذا ما يفعله بعض سكان البوادي من أمرها بحلق شعرها لا يقع به طلاق وإن نواه."

(الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین، کتاب الطلاق،ج3،ص230،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411100487
تاریخ25-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں