بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر کے مال کو بغیر اجازت کے استعمال کرنا کا حکم

سوال

میں دوبئی میں ایک کھجور کمپنی میں کام کرتا ہوں ،اور مجھے بہت زیادہ بھوک لگ جاتی ہیں ،کیا یہ کھانا حلال ہے یا حرام؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر کمپنی کے مالک نے اجازت دی ہو کہ مزدور اس میں سے کھا سکتے ہیں تو  سائل کیلئے کھانا جائز ہے ،اور اگر اجازت نہ ہو توپھر  کھاناجائز نہیں  ہوگا۔بھوک مٹانے کیلئے از خود انتظام کرنا ضروری ہے۔

دررالحکام میں ہے:

" لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه‌ لا ‌يجوز ‌لأحد ‌أن ‌يتصرف ‌في ملك الغير بلا إذنه هذه المادة مأخوذة من المسألة الفقهية (لا يجوز لأحد التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته) الواردة في الدر المختار."

(‌‌المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، (المادة 96): لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه، ج: 1 ص: 27 ط: دار الجیل)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411100346
تاریخ23-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں