بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

انّ من جزاء الحسنةِ الحسنةُ بعدها، وان من جزاء السيئة السيئةُ بعدها کی تحقیق؟

سوال

اس مقولہ کی تحقیق درکار ہے: ’’ إن من جزاء الحسنةِ الحسنةُ بعدها ، وإن من جزاء السيئة السيئةُ بعدها‘‘۔

جواب

یہ اسلاف میں سے کسی بزرگ کا قول ہے،  حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ  نےقرآن کریم کی متعدد آیات کی تفسیر میں اس قول کو  ذکر کیا ہے۔

"قال بعض السلف: إن من ثواب الحسنة الحسنة بعدها، وإن من جزاء السيئة السيئة بعدها".

(تفسير ابن كثير: تفسير قوله تعالى:{إن الذين تولوا منكم يوم التقى الجمعان إنما استزلهم الشيطان ببعض ما كسبوا} (2/ 128)، ط. دار الكتب العلمية، منشورات محمد علي بيضون - بيروت، الطبعة الأولى : 1419 هـ)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411100328
تاریخ23-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں