لے پالک کا میراث میں حصے کا حکم
سوال
میرے بڑے بھائی کا انتقال ہوگیا ہے،وہ الگ رہتاتھا، اب بھائی کی جائیداد کا علم نہیں ،اور بھابھی بھی کچھ نہیں بتا رہی اولاد نہیں تھی، بھانجے کوگود لیاتھا، اس میں شرعی حکم کیا ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں اگر بھائی کا کوئی مال یا جائیداد ثابت ہوجاتی ہے تو ان کی بیوہ کا اس میں ایک چوتہائی حق ہوگا اورباقی دیگر ورثاء کا حق ہوگا۔ مرحوم نے جس بھانجے کو گود لیا تھا وہ مرحوم کا شرعی وارث نہیں ہے، البتہ ورثاء اس کو خوشی سے کچھ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں ۔
نوٹ: ترکہ کی تقسیم کا طریقہ معلوم کرنے کے لیے ورثاء کی تفصیل کے ساتھ سوال دوبارہ جمع کیا جاسکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

