بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچی کا نام عروہ رکھنے کا حکم

سوال

کیا بچی کا نام عُروہ رکھا جا سکتا ہے ؟

جواب

عروۃ نام کا معنیٰ ہے:قابلِ اعتماد چیز،جگ کا دستہ ،قبضہ ،،مضبوط ذریعہ اتحاد

(القاموس الوحید، المادّۃ:ع/ ر/ و، ص:1075،ط:ادارۃ الاسلامیات)

 عروہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے ساتھ بعض صحابیات کا نام بھی ہے، لہذا بچی کا نام عروہ رکھ سکتے ہیں۔

الوافی بالوفیات میں ہے:

"عروة بن حزام أحد متيمي العرب ومن قتله الغرام ومات عشقا في حدود الثلاثين في خلافة عثمان بن عفان رضي الله عنه وهو صاحب عفراء التي كان يهواها وكانت عفراء تربالعروة بنت عمه يلعبان معا."

(الوافي بالوفيات ،الجزء الأول، ج:1، ص:28، دار إحياء التراث العربي)

السیرۃ النبویّۃ میں ہے:

"أم حبيبة هي رملة بنت أبي سفيان، هاجرت إلى الحبشة مع زوجها عبد الله بن جحش الأسدي، وهي التي عرضت على النبي صلى الله عليه وسلم الزواج بأختها ‌عروة ‌بنت أبي سفيان، فعجب النبي صلى الله عليه وسلم لذلك، وقال: "أوتحبين ذلك؟! " قالت: نعم."

(السیرۃ النبویة،ص:376،ط:مؤسسة الرسالة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411100278
تاریخ23-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں