بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جائے نماز تہہ کرنے کا طریقہ

سوال

شریعت میں جائے نماز تہہ کرنے کا کیا طریقہ ہے، جائے نماز لمبائی میں تہہ کرنی چاہیے یا چوڑائی میں؟ اور اگر خلاف طریقے پر تہہ کیا جائے تو کوئی فرق ہوگا یا نہیں؟

جواب

شریعت  میں جائے نماز تہہ کرنے کا کوئی خاص طریقہ بیان نہیں کیا گیا ہے، کسی بھی طریقے سے  جائے نماز تہہ کرلی جائے تو درست ہے، البتہ ادب یہ ہے کہ جائے نماز کی پہلی تہہ چوڑائی میں کی جائے، یعنی سجدے کی جگہ کا ایک کنارہ دوسرے کنارے کے ساتھ مل جائے اور پائنتی کا ایک کنارہ دوسرے کنارے کے ساتھ مل جائے، پھر دوسری تہہ لمبائی میں کی جائے، تاہم اس کے خلاف کرنے پر بھی کوئی گناہ نہیں ملتا یہ صرف ادب اور نظافت کے قبیل سے ہے، اسے شرعی حکم سمجھنا اور لازم سمجھنا  درست نہیں ہے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411100228
تاریخ22-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں