بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پیچ فون کی خرید وفروخت کا حکم

سوال

 آج کل پیچ فون کی خرید وفروخت ہو رہی ہے، پیچ والا فون ایک ایسا فون ہے جس کا اصل IMEI کسی دوسرے سستے فون کے IMEI سے تبدیل کیا جاتا ہے، تاکہ PTA کی DUTY بچائی جا سکے ، قانوناً یہ جائز نہیں ہے، کیا ایسا فون خریدنا شرعاً درست ہے؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں مذکورہ فون کی خریدو فروخت کرنا چوں کہ قانوناً جرم ہے ،جس کی وجہ سے انسان کی عزت پامال ہونے کا خطرہ ہے ؛لہذا اس قسم کے فون کی خرید وفروخت سے اجتناب کرنا چاہیے ۔

تفسیر مظہری میں ہے :

"أَنْفِقُوا أموالكم فِي سَبِيلِ اللَّهِ فى الجهاد وَلا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ، قيل: الباء زائدة وعبر بالأيدي عن الأنفس وقيل: فيه حذف اى لا تلقوا أنفسكم بايديكم يعنى باختياركم والإلقاء طرح الشيء وعدى بالى لتضمن معنى الانتهاء- والقى بيده لا يستعمل الا في الشر ‌إِلَى ‌التَّهْلُكَةِ اى الهلاك- قيل: كل شىء يصير عاقبته الى الهلاك فهو التهلكة وقيل: التهلكة ما يمكن الاحتراز عنه والهلاك ما لا يمكن الاحتراز عنه".

(ج:1،ص:215،مکتبۃ الرشدیۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411100190
تاریخ22-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں