فیک ڈیٹادےکر جی میل بنانااوراس کوفروخت کرکے پیسہ کمانے کاشرعی حکم
سوال
1۔ کیا فیک ڈیٹا دے کر جی میل اکاؤنٹ بنانا جائز ہے؟
2۔کیا فیک جی میل بیچ کر پیسہ کمانا جائز ہے کیا اس پیسے کا استعمال حلال ہے؟
جواب
1۔فیک ڈیٹادےکر جی میل بنانا چوں کہ جھوٹ اور دھوکہ دہی ہے، اس بنیاد پر فیک ڈیٹادے کر جی میل بناناشرعاً جائز نہیں۔
2۔شرعًا خرید و فروخت کے جائز ہونے کے لیے دونوں جانب مال ہونا شرعًا ضروری ہے، جب کہ مسئولہ صورت میں فروخت کنندہ خریدار سے تو مال وصول کر رہا ہے، جب کہ خریدار کو عوض میں محض ایک حق فراہم کررہا ہے، جو کہ مال نہیں۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(بطل بيع ما ليس بمال) والمال ما يميل إليه الطبع ويجري فيه البذل والمنع درر."
(کتاب البیوع،باب البیع الفاسدج:5،ص:50،ط:سعید)
فقط والله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

