بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فیک ڈیٹادےکر جی میل بنانااوراس کوفروخت کرکے پیسہ کمانے کاشرعی حکم

سوال

1۔    کیا فیک ڈیٹا دے کر جی میل اکاؤنٹ بنانا جائز ہے؟

2۔کیا فیک جی میل بیچ کر پیسہ کمانا جائز ہے کیا اس پیسے کا استعمال حلال ہے؟

جواب

1۔فیک ڈیٹادےکر جی میل بنانا چوں کہ جھوٹ اور دھوکہ دہی ہے، اس بنیاد پر فیک  ڈیٹادے کر جی میل بناناشرعاً جائز نہیں۔

2۔شرعًا خرید و فروخت کے جائز  ہونے کے  لیے دونوں جانب مال ہونا شرعًا ضروری ہے، جب کہ  مسئولہ  صورت  میں فروخت  کنندہ خریدار سے تو مال وصول کر رہا ہے، جب کہ خریدار کو عوض میں محض ایک حق فراہم کررہا ہے، جو کہ مال نہیں۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"(بطل بيع ما ليس بمال) والمال ما يميل إليه الطبع ويجري فيه البذل والمنع درر."

(کتاب البیوع،باب البیع الفاسدج:5،ص:50،ط:سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411100182
تاریخ22-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں