بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

انسانی شکلوں (تصاویر) کو بگاڑ کر سوشل میڈیا پر شئیر کرنا

سوال

انسانی شکلوں(تصاویر)کو بگاڑکرسوشل میڈیاپرشئیرکرناجائز ہے یا نہیں؟

جواب

انسان یا کسی بھی جان دار کی تصاویر  جب کہ وہ اپنی اصلی حالت پر ہوں (بگاڑی ہوئی نہ ہوں) کو سوشل میڈیا شیئر کرنا جائز نہیں ہے، جب بگاڑے بغیر شیئر کرنا جائز نہیں تو بگاڑ کر شیئر کرنا  کیوں کر جائز ہوسکتا ہے۔

شرح النووی على مسلم  میں ہے:

"قال أصحابنا وغيرهم من العلماء: ‌تصوير ‌صورة الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث وسواء صنعه بما يمتهن أو بغيره فصنعته حرام بكل حال."

(كتاب اللباس و الزينة، باب تحريم ‌تصوير ‌صورة الحيوان، 14/ 81، ط:دار إحياء التراث العربي)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411100124
تاریخ22-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں