بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تعویذ کو تلف کرنا

سوال

اگر کبھی کسی حاجت کے لیے قرآنی آیت کی کوئی تعویذ بنایا ہو اور اسے ختم کرنا ہو تو اسکا کیا طریقہ کار ہے، آس پاس کوئی دریا نہر وغیرہ بھی نہیں تو کوئی آسان طریقہ کار تا کہ وہ تعویذ ختم ہوجائے، مقدس اوراق میں بھی تو بندہ نہیں پھینک سکتا، نہ پھاڑ سکتے ہیں نہ جلا سکتے ہیں ،کیا کرنا چاہئے؟

جواب

صورت مسئولہ میں قرآنی آیات پر مشتمل تعویذ کو تلف کرنے کے متعدد طریقوں میں سے ایک  طریقہ یہ ہے کہ ان کو کسی ایسے پاک جگہ دفن کردے جو لوگوں کی آمد و رفت سے دور ہو البتہ ایسی جگہ دفن نہ کیا جائے جو گندگی کے لئے استعمال ہوتی ہو، ورنہ بے حرمتی لازم آئیگی جو کسی صورت جائز نہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"الكتب التي لا ينتفع بها يمحى عنها اسم الله وملائكته ورسله ويحرق الباقي ولا بأس بأن تلقى في ماء جار كما هي أو تدفن وهو أحسن كما في الأنبياء."

(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع: 6/ 422، ط: سعید)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411100051
تاریخ21-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں