بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زخم کو دھونے کا حکم

سوال

اگر پاؤں پر زخم ہواور  وضو میں پانی بھی نہیں بہا یا اور زخم پر مسح کرنا بھی بھول گیا تو وضو ہو گیا کہ نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر زخم زیادہ ہو اور پانی لگنے سے نقصان ہوتا ہو تو شریعت نےایسی صورت میں وضو کرنے والے کو مسح کرنے کی اجازت دی ہے ، لہذا مسح کرنا ضروری ہے اگر نہیں کیا تو وضو مکمل نہیں ہو ا اور اس وضو سے جتنی نمازیں پڑھی ہے سب کا اعادہ کرے۔

البتہ اگر  زخم اتنا زیادہ  ہوکہ مسح کرنے سے بھی نقصان پہنچتا ہو تو پھر مسح کرنا بھی لازم نہیں ہے اور اس کے بغیر وضو ہو جائے گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

" [فروع] في أعضائه شقاق غسله إن قدر وإلا مسحه وإلا تركه ولو بيده، ولا يقدر على الماء تيمم، ولو قطع من المرفق غسل محل القطع.۔۔۔(قوله: وإلا تركه) أي وإن لم يمسحه بأن لم يقدر على المسح تركه".

(سنن الوضوء، ج: 1، ص: 102، ط: سعيد)

وفیہ ایضا :

"(ويجوز) أي يصح مسحها (ولو شدت بلا وضوء) وغسل دفعا للحرج (ويترك) المسح كالغسل (إن ضر وإلا لا) يترك (وهو) أي مسحها (مشروط بالعجز عن مسح) نفس الموضع (فإن قدر عليه فلا مسح) عليها. والحاصل لزوم غسل المحل ولو بماء حار، فإن ضر مسحه، فإن ضر مسحها، فإن ضر سقط أصلاً.

(مطلب نواقض المسح،ج: 1،  ص: 280، ط: سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144410101897
تاریخ20-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں