ذبح شدہ بکرا عقیقہ کی نیت سے خریدنا
سوال
کوئی شخص قصاب کی دکان پر جاتا ہے، جہاں ذبح شدہ سالم بکرے ،اتری ہوئی کھال کے ساتھ لٹکے ہوئے ہیں، وہ شخص عقیقہ کی نیت سے بکرے مع پائے اور دوسرے اعضاء مکمل لیتا ہے ، اس صورت میں کیا عقیقہ ہو جائے گا؟
جواب
صورت مسئولہ میں عقیقہ کی نیت کے بغیر ذبح کیے ہوئے بکرے کو خریدنے سے عقیقہ نہیں ہوگا۔
الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:
"والعقيقة:الذبيحة التي تذبح عن المولود يوم اسبوعه."
(الباب الثاني الاضحية والعقيقة، الفصل الثاني العقيقة واحكامها، ج:4، ص:2745، ط:دار الفكر )
بدائع الصنائع میں ہے:
"لو تصدق بعين الشاة أو قيمتها في الوقت لا يجزيه عن الأضحية؛ لأن الوجوب تعلق بالإراقة."
(كتاب التضحية، فصل في أنواع كيفية الوجوب، ج:5، ص:65، ط:دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

