بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ذبح شدہ بکرا عقیقہ کی نیت سے خریدنا

سوال

کوئی شخص قصاب  کی دکان پر جاتا ہے، جہاں ذبح شدہ سالم بکرے ،اتری ہوئی کھال کے ساتھ لٹکے ہوئے ہیں، وہ شخص عقیقہ کی نیت سے بکرے مع پائے اور دوسرے اعضاء مکمل لیتا ہے ، اس صورت میں کیا عقیقہ ہو جائے گا؟

جواب

صورت مسئولہ میں عقیقہ کی نیت کے بغیر ذبح کیے ہوئے بکرے کو خریدنے سے عقیقہ نہیں ہوگا۔

الفقہ الاسلامی وادلتہ  میں ہے:

"والعقيقة:الذبيحة التي  تذبح عن المولود يوم اسبوعه."

(الباب الثاني الاضحية والعقيقة، الفصل الثاني العقيقة واحكامها، ج:4، ص:2745، ط:دار الفكر )

بدائع الصنائع میں ہے:

"‌لو ‌تصدق ‌بعين ‌الشاة أو قيمتها في الوقت لا يجزيه عن الأضحية؛ لأن الوجوب تعلق بالإراقة."

(كتاب التضحية، فصل في أنواع كيفية الوجوب، ج:5، ص:65، ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144410101894
تاریخ20-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں