بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شرعی پردے کا حکم

سوال

کوئی شخص اپنے ہونے والے منگیتر پر پردہ کی اور اِدھر اُدھر جانے کی پابندی لگا سکتا ہے یا شادی کے بعد ہی مرد کو حق ہے ؟ کیا یہ پابندیاں لگانے کا مطلب شک کرنا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں نکاح سے پہلے سائل کو منگیتر پر کسی قسم کا حق حاصل نہیں،اور نہ ہی سائل سے اس  کے متعلق پوچھا جائے  گا،نکاح سے پہلےمنگیتر کو پردہ کروانا اور شرعی امور کا پابند کرنا اس کے والدین اور اس کے متولی  کا کام ہے،البتہ  کسی معقول طریقے سے اپنے منگیتر کے والدین کو پیغام دے دیں کہ اپنی بیٹی کو شرعی پردہ کرنے اور باقی شرعی امور پر  پابند کرے۔

احكام القرآن میں ہے:

"قال أبو بكر: في هذه الآية دلالة على أن المرأة الشابة مأمورة بستر وجهها عن الأجنبيين وإظهار الستر والعفاف عند الخروج لئلا يطمع أهل الريب فيهن. وفيها دلالة على أن الأمة ليس عليها ستر وجهها وشعرها; لأن قوله تعالى: {ونساء المؤمنين} ظاهره أنه أراد الحرائر، وكذا روي في التفسير، لئلا يكن مثل الإماء اللاتي هن غير مأمورات بستر الرأس والوجه، فجعل الستر فرقا يعرف به الحرائر من الإماء وقد روي عن عمر أنه كان يضرب الإماء ويقول: اكشفن رءوسكن ولا تشبهن بالحرائر."

(ومن سورة النور، باب: الرجل يطلق امرأته طلاقا بائنا ثم يقذفها، فصل:في إباء أحد الزوجين اللعان، ج: 3 ص: 486 ط: دار الکتب العلمية )

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144410101886
تاریخ20-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں