بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اشال نام رکھنے کا حکم

سوال

اشال نام کے بارے میں بتائیں کہ اس نام کو رکھنےکا کیا حکم ہے؟

جواب

اِشَال نام کا معنی ہے: کمزور، غریب محتاج ہونا (القاموس الوحید، المادۃ:و/ ش/ل، ص:1854، ط:ادارۃ الاسلامیات)

مذکورہ معنیٰ کے اعتبار سے بچے کا نام اشال رکھنا درست نہیں ہے، اس کےبجائےانبیاء کرام علیہم السلام/  صحابہ کرام رضوان للہ علیہم اجمعین یا نیک لوگوں کے کے ناموں میں سے کسی نام کا انتخاب کرکے رکھنا زیادہ بہتر اور افضل ہے، جامعہ کی  ویب سائٹ  کے سرورق پر اسلامی نام کے سیکشن میں  حروفِ تہجی کے اعتبار سے  کئی نام موجود ہیں، آپ وہاں بھی دیکھ سکتے ہیں۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144410101784
تاریخ18-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں