بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عدت کی مدت کا بیان

سوال

 میں نے تیسری  زبانی طلاق (میں  تجھے طلاق دیتا ہوں)28 فروری 2023کو پاکی کی حالت میں دی ہے،اور بیوی ذوا ت الحیض میں سے ہے،تو عدت  کا وقت کس تاریح اور مہینہ کو پورا ہوگا؟پھر اسی طلا ق کو میں نے لکھ کر 8 اپریل 2023 کو  بیوی کو دیا ہے،اگر زبانی طلاق سے عدت شروع نہیں ہوتی تو لکھی کر دی گئی طلاق کی تاریح کے حساب سے عدت کس تاریح تک مکمل ہو جائےگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل  کی بیوی کی عدت    28 فروری کے بعد تین ماہوریوں تک ہوگی،یعنی تیسری اور  آخری  ماہواری کے خون کے بند ہو جانے کے ساتھ سائل کی بیوی  کی عدت مکمل ہوجائے گی۔

ہدایۃ میں ہے:

"وإذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء " لقوله تعالى: {والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء} [البقرة: 228]."

(کتاب الطلاق، باب العدة، ج: 2 ص: 274 ط: دار الإحیاء التراث العربي)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144410101697
تاریخ17-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں