بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دینی کتب کے لیے دی جانے والی رقم کا حکم

سوال

اگر دینی کتب کے لیے  طالب علم کو کسی نے رقم دی تو کیا وہ اس رقم کو دوسرے مصرف میں استعمال کر سکتا ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  جب رقم دینے والے نے طالبِ علم کو یہ کہہ کر رقم دی کہ اس سے کتابیں لے لینا، تو اس کے لیے اس رقم کو کسی اور مصرف میں استعمال کرنا درست نہیں، تاہم اگر یہ رقم زکوۃ کی ہے تو دینے والے کی طرف سے یہ مشورہ ہے، اور طالب علم کے لیے اس رقم کو کسی اور مصرف میں استعمال کرنے کی گنجائش ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ جس مصرف کے لیے دینے والے نے رقم  دی ہے اسی مصرف میں استعمال کیا جائے تاکہ دینے والے کا اعتماد برقرار رہے۔

الجوہرۃ النیرہ میں ہے:

"لا يجوز للوكيل أن يتصرف ‌إلا ‌فيما ‌جعل ‌إليه."

(كتاب آداب القاضي، كتاب القاضي إلى القاضي، ج:2، ص:245، ط:المطبعة الخيرية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144410101620
تاریخ16-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں