بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سحری کا وقت ختم ہوجانے کے بعد بھول کر پانی پینے سے روزے کا حکم

سوال

اگر کسی نے سحری میں اذان کے بعد پانی پی لیا اور یہ سمجھا کہ اذان نہیں ہوئی ہے، جب کہ اذان ہوچکی تھی ، تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر  کسی نے بے خبری میں اذان کے بعد  بھی کچھ کھا، پی لیا  ،  تو اس کا اس دن کا روزہ نہیں ہوا،  بعد میں اس روزے کی قضا کرنی ضروری ہوگی،لیکن  کفارہ لازم نہیں ہوگا ،البتہ پورا دن روزہ داروں کی طرح بھوکا پیاسا رہنا ہوگا۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"‌تسحر ‌على ‌ظن أن الفجر لم يطلع، وهو طالع أو أفطر على ظن أن الشمس قد غربت، ولم تغرب قضاه، ولا كفارة عليه؛ لأنه ما تعمد الإفطار كذا في محيط السرخسي."

(كتاب الصوم،الباب الأول في تعريفه وتقسيمه وسببه ووقته وشرطه،194/1،ط:رشیدیة)

وفیہ ایضاً:

"تسحر على ظن أن الفجر لم يطلع ثم تبين أنه طالع فإنه يجب عليه الإمساك في بقية اليوم تشبها بالصائمين كذا في البدائع."

(كتاب الصوم،‌‌الباب السابع في الاعتكاف،214/1،ط:رشیدیة)

فقط والله أعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144410101602
تاریخ16-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں