بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کمیٹی (بی سی) کے پیسوں سے عمرہ پر جانے کا حکم

سوال

کیا عمرہ پر کمیٹی کے پیسوں سے جاسکتے ہیں یعنی ابھی ہمیں ابھی مزید پیسے دینے ہوں؟

جواب

 صورتِ مسئولہ میں  کمیٹی کے متعلق  اگر  یہ طے ہو کہ  سب نے برابر سرابر پیسے اداکرنے  ہیں اور آخر تک سب کمیٹی کی ادائیگی میں شریک رہیں گے تو جس جس کی کمیٹی نکلے گی  وہ   شرعاً  اس کا مالک ہوجاتاہے ،لہٰذا گر وہ  اس رقم سے عمرہ یاکوئی بھی تصرف کرناچاہے تو اس کے لئے یہ جائز ہوگا۔

شرح المجلۃ میں ہے:

"كل يتصرف في ملكه كيف شاء".

(الکتاب العاشر، باب ثالث، فصل اول، رقم المادة: ١١٩٢، ج نمبر:۱ ص نمبر:۵۱۷، مکتبہ رشیدیہ)

 فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144410101583
تاریخ15-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں