بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عدت وفات کی تاریخ کا حساب

سوال

سسر کا انتقال   30 جنوری ، رات چار بجے ہوا، چاند کی تاریخ 7 رجب تھی، اب عدت  شمار کرکے بتادیں کہ کب ختم ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ اگرکسی عورت کے  شوہر کا انتقال قمری (اسلامی) مہینے کی ابتدا یعنی پہلی تاریخ میں ہوا ہو، تو اس عورت کی  عدت چاند کے مہینوں کے اعتبار سے چار ماہ دس دن ہوگی، خواہ کوئی مہینہ انتیس کا ہی کیوں نہ ہو۔ اور اگر شوہر کا انتقال مہینے کے درمیان میں ہوا ہو تو   کل 130 دن شمار کرکے عدت گزارنا لازم ہوگا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ  كے سسر  كا 30 جنوری بمطابق 7 رجب  کو رات چار بجے انتقال  ہوا ہے، تو  اس کی بیوہ کی عدت   130 دن مکمل ہو نے كے بعد 9 جون كو رات چار بجے مکمل ہوجائے گی۔

"فتاوی شامی" میں ہے:

"في المحيط: إذا اتفق عدة الطلاق و الموت في غرة الشهر اعتبرت الشهور بالأهلة وإن نقصت عن العدد، وإن اتفق في وسط الشهر، فعند الإمام يعتبر بالأيام، فتعتد في الطلاق بتسعين يوماً، وفي الوفاة بمائة وثلاثين".

(3/ 509، کتاب الطلاق، باب العدة، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144410101546
تاریخ15-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں