بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تصویر بنانے کا کیا تصور ہےاور کون سی تصویر بنانے کو حرام قرار دیا گیا ہے؟

سوال

تصویر بنانے کا کیا تصور ہےاور کون سی تصویر بنانے کو حرام قرار دیا گیا ہے؟

  • کیمرے سے لی گئی تصویر، حرم شریف میں عام ہے۔
  • کیمرے سے بنائی گئی فلم، حرم شریف میں ہر طرف کیمرے لگے ہوئے ہیں۔
  • کسی کاغذ پر ہاتھ سے بنائی گئی تصویر۔
  • ہاتھ سے بنائی گئی مورتی۔

یہ سب حرام ہے یا اس میں گنجائش ہے؟

جواب

تصویر یہ ہے کہ نظر ناظر میں اس سے جاندار کی حکایت ہو۔  دینِ اسلام میں جان دار کی  تصویر سازی، کسی بھی شکل میں ہو (متحرک ہو یا ساکن)کسی بھی طریقے  سے بنائی جائے، بناوٹ کے لیے جو بھی آلہ استعمال ہو، کسی بھی غرض و مقصد سے تصویر  بنائی جائے، ناجائز   حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔،  حرام کام کہیں بھی کیا جائے حرام ہی ہے، اس کے عام ہونے سے حرمت پر اثر نہیں پڑے گا۔

فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144410101538
تاریخ15-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں