بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 ربیع الثانی 1448ھ 11 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شفعہ میں شرب خاص سے مراد کیا ہے؟

سوال

 باب شفعہ میں موجودہ دور میں شرب خاص سے کیا مراد ہے ؟

جواب

"شرب خاص" سے مراد کھیتوں کو سیراب کرنے کے لیےنہروں سے پانی لینے کی باری کو کہا جاتا ہے۔  جہاں اس طرح کا نظام اراضی ہوگا وہاں ”شرب“ کی صورت بھی پائی جائے گی۔

در مختار میں ہے:

"(‌كالشرب ‌والطريق خاصين) ثم فسر ذلك بقوله: (كشرب نهر) صغير (لا تجري فيه السفن وطريق لا ينفذ) فلو عامين لا شفعة بهما....بيانه: شرب نهر مشترك بين قوم تسقى أراضيهم منه بيعت أرض منها فلكل أهل للشرب الشفعة."

( كتاب الشفعة، ص:621دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144410101528
تاریخ15-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں