بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کرکٹ کے گراونڈ میں جو مفاسد ہوتے ہیں کیا ان کا گناہ گراؤنڈ بنانے والے کوہو گا

سوال

ایک بندے نے کرکٹ کا میدان بنایا تاکہ بچے اس میں کھیلیں ،لیکن ساتھ ساتھ کچھ خرابیاں بھی ہیں، ایک یہ کہ لوگ کھیل کود میں لگ کر نمازیں قضا کر دیتے ہیں، اس گراؤنڈ میں مختلف قسم کے لوگ ہوتے ہیں اور آپس میں لڑائی وغیرہ بھی ہوتی ہے تو کیا ان مفاسد کا گناہ گراؤنڈ بنانے والے اور اس کے معاونین کو بھی ملے گا ؟

جواب

صورت  مسؤلہ میں جولوگ کرکٹ کے میدان میں  کھیل کود میں لگ کر نمازیں قضا کر دیتے ہیں،اور آپس میں لڑائی اوردیگرمفاسد کاارتکاب  کرتے ہیں   تو  ان مفاسد کا گناہ مفاسد کاارتکاب  کرنے والوں کوہوگا ،گراؤنڈ بنانے والے اور ان  کے معاونین  کو(بشرطیکہ یہ لوگ  مذکورہ مفاسد کاارتکاب نہیں کرتے اورنہ ہی  اس میں معاونت کرتے ہیں ) گناہ نہیں  ہو گا ۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144410101415
تاریخ14-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں