بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غسل میں دانتوں کے پیلے پن کا حکم

سوال

مسوڑھوں پر کالاپن یا پکا (پیلا) میل جم جائے اور آسانی سے صاف کرنے سے نہ نکلیں تو اس صورت میں غسل کا حکم۔

جواب

واضح رہے کہ مسوڑھوں پر  کالا یا پیلا پن اس طرح جم جائے کہ سخت چیز سے بھی صاف نہ ہو تو اس کو دور کرنا ضروری نہیں،لہذا صورتِ مسئولہ میں  غسل میں  صرف  دانتوں اور مسوڑھوں پر پانی بہادینا کافی ہے، کالے پن یا پیلے پن کو دور کرنا ضروری نہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

‌"(ويجب) ‌أي ‌يفرض (‌غسل) كل ما يمكن من البدن بلا حرج."

(کتاب الطہارۃ، فرض الغسل، ج:1، ص:152، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144410101406
تاریخ14-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں