بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سونے کی زکات کی ادئیگی میں کس دن کا اعتبار ہوگا؟

سوال

میں ہر سال اپنے سونے کی سال کی مدت پوری ہوتے ہی اس پر زکوٰۃ کا حساب نکال لیتی ہوں ، اس سال حج کے ارادے کی وجہ سے تاخیر ہو گئی ہے ،کیونکہ حج سونا بیچ کر کرنے کا ارادہ تھا، لیکن اس کی رقم میں کمی کی وجہ سے حج ملتوی کرنا پڑا ،  اب زکوٰۃ آج کے ریٹ پر نکالوں ، یا جس دن اس کی سال کی مدت پوری ہوئی اس دن کی قیمت کے حساب سے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  جس دن زکات نکالی جائے گی اس دن سونے  کی جو قیمت ہو گی  اس کا اعتبار ہو گا، یعنی جس دن سال کی مدت پور ی ہورہی ہے اس دن کی قیمت کا اعتبار نہیں ہو گا ، بلکہ  ادائیگی کےدن  موجودہ ریٹ کے حساب سے زکات ادا کی جائے گی۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا".

( كتاب الزكوة، فصل صفة الواجب في أموال التجارة، ج:٢، ص: ٢٢، ط: دار الكتب العلمية)

فتاویٰ شامی میں ہے: 

"وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه ولو في مفازة ففي أقرب الأمصار إليه فتح."

(کتاب الزکاۃ، ج: ۲، ص: ۲۸۶، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144410101212
تاریخ11-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں