بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجدِ حرام، مطاف اور مسعیٰ میں جوتا پہننا کیسا ہے؟

سوال

مسجد الحرام،  مطاف اور صفا مروہ  میں جوتا پہننا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مسجدِ حرام  اور مطاف  میں جوتے/ چپل پہن کر جانا ادب کے خلاف ہے، البتہ اگر  کسی شخص کے پاؤں میں زخم یا تکلیف ہو یا اس کے بڑھ جانے کا اندیشہ ہو یا کوئی اور مرض ہو،تو اس کے لیے  نجاست اور گندگی سے پاک و صاف جوتے/ چپل  پہننے کی گنجائش ہے،  لیکن بہتر یہ ہے کہ ایسا شخص مسجدِ حرام اور مطاف  کے لیے جوتوں/ چپل  کا علیحدہ پاک صاف جوڑا رکھ لے جو کہیں اور استعمال نہ کرے۔

نیز اگر محرم کو مذکورہ اعذار کی بنا پر مسجدِ حرام یا  مطاف وغیرہ میں چپل پہننے کی ضرورت ہو تو ایسی چپل استعمال کرے  جو حالتِ احرام میں پہننا جائز ہو۔

 البتہ مسعیٰ یعنی صفا ومروہ  چوں کہ حکم کے اعتبار سے مسجدِ حرام  میں داخل نہیں ہے،لہٰذا  وہاں پاک صاف جوتے/  چپل پہننے کی گنجائش ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(قوله: و صلاته فيهما) أي في النعل و الخف الطاهرين أفضل؛ مخالفةً لليهود، تتارخانية. و في الحديث: " صلوا في نعالكم، و لاتشبهوا باليهود، رواه الطبراني كما في الجامع الصغير رامزًا لصحته. وأخذ منه جمع من الحنابلة أنه سنة، و لو كان يمشي بها في الشوارع؛ لأنّ النبي صلى الله عليه وسلم وصحبه كانوا يمشون بها في طرق المدينة ثم يصلون بها. قلت: لكن إذا خشي تلويث فرش المسجد بها ينبغي عدمه و إن كانت طاهرةً. و أما المسجد النبوي فقد كان مفروشًا بالحصى في زمنه صلى الله عليه وسلم بخلافه في زماننا، و لعل ذلك محمل ما في عمدة المفتي من أن دخول المسجد متنعلًا من سوء الأدب، تأمل."

(فروع اشتمال الصلاة على الصماء والاعتجار والتلثم والتنخم وكل عمل قليل بلا عذر، باب ما يفسد الصلاة، وما ويكره فيها، ج:1، ص:657،  ط: سعید)

وفیه أیضاً:

"(و خفين إلا أن لايجد نعلين فيقطعهما أسفل من الكعبين) عند معقد الشراك.

(قوله: وخفين) أي للرجال فإن المرأة تلبس المخيط و الخفين، كما في قاضي خان قهستاني."

(کتاب الحج ، ج: 2، ص:490، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144410101174
تاریخ11-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں