بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

منگیتر کا نام لے کر طلاق کے الفاظ بولنے کا حکم

سوال

موسوس شخص اپنی منگیتر کا نام لے کر طلاق کے الفاظ زبان سے بولے تو کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہےکہ طلاق دینے کے لیے نکاح کا ہونا ضروری ہے، یعنی جس کو طلاق دی جارہی ہو وہ  عورت نکاح میں موجود ہو، یا نکاح کی طرف نسبت کرکے طلاق کے الفاظ استعمال کیے جائیں؛  لہٰذا صورتِ مسئولہ میں   طلاق واقع نہیں ہوئی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله ومحله المنكوحة) أي ولو معتدة عن طلاق رجعي أو بائن غير ثلاث في حرة وثنتين في أمة ".

(کتاب الطلاق،محل الطلاق،ج:3،ص:230،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144410101068
تاریخ10-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں