منگیتر کا نام لے کر طلاق کے الفاظ بولنے کا حکم
سوال
موسوس شخص اپنی منگیتر کا نام لے کر طلاق کے الفاظ زبان سے بولے تو کیا حکم ہے؟
جواب
واضح رہےکہ طلاق دینے کے لیے نکاح کا ہونا ضروری ہے، یعنی جس کو طلاق دی جارہی ہو وہ عورت نکاح میں موجود ہو، یا نکاح کی طرف نسبت کرکے طلاق کے الفاظ استعمال کیے جائیں؛ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں طلاق واقع نہیں ہوئی۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله ومحله المنكوحة) أي ولو معتدة عن طلاق رجعي أو بائن غير ثلاث في حرة وثنتين في أمة ".
(کتاب الطلاق،محل الطلاق،ج:3،ص:230،ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

