بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’منحہ فاطمہ‘‘ نام رکھنے کا حکم اور معنی

سوال

 میں نے اپنی بیٹی کا نام منحہ فاطمہ رکھا ہے، کیا یہ نام ٹھیک ہے؟ اور اس کا مطلب کیا ہے ؟   مجھے کسی نے بتایا کہ اس کا مطلب ہے اللہ کا تحفہ۔

جواب

صورت مسئولہ میں "منحہ" میم پر زیر کے ساتھ عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کا معنی ہے: تحفہ، عطیہ، گفٹ؛  اگر لفظ ’’مِنْحَةُ الله‘‘  ہو تو اس کا مطلب’’اللہ کا تحفہ‘‘  ہوگا؛ جب کہ   "فاطمہ" رسول اکرم ﷺ  کی صاحب زادی  کا نام ہے،  لہذا آپ اپنی بیٹی کا نام ’’منحہ فاطمہ‘‘ رکھ سکتے ہیں، لیکن بہتر یہ ہے کہ صرف فاطمہ نام رکھا جائے۔

المھذب فی اختصارسنن الکبیر میں ہے:

"هشيم، عن داود بن عمرو، عن عبد الله بن أبي زكريا الخزاعي (2) عن أبي الدرداء قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم وأسماء آبائكم؛ فأحسنوا أسماءكم."

(‌‌كتاب العقيقة،8/885،ط:دار الوطن للنشر)

المعجم الوسیط میں ہے:

"المنحة: العطية".

(۲/ ۸۸۸، ط:دار الدعوة)

والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144410100990
تاریخ09-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں