بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بہن بھائی کی موجودگی میں چچازاد کا حصہ

سوال

ایک بیوہ کو خاوند کی وراثت سے حصہ مل گیا ہے، جب کہ کوئی اولاد نہیں ہے. اب بیوہ کے ورثا میں بیوہ کے مرحوم خاوند کی صرف بہن زندہ ہے اور بیوہ کے بہن بھائی اور چچا زاد زندہ ہیں۔ (جب کہ مرحوم اور بیوہ آپس میں چچا زاد تھے) سوال یہ ہے کہ بہن، چچازاد بھائی اور بیوہ کو مرحوم شوہر کے جائیداد سے حصہ مل چکا ہے اب بیوہ کے فوت ہوجانے پر بیوہ کی وراثت کا تقسیم کار کیا ہے؟ شوہر کی بہن کو ملے گا یا بیوہ کے بہن بھائی کو، یا چچازاد اولاد میں برابر تقسیم ہوگا؟ برائے مہربانی بیوہ کی وراثت کی تقسیم کار واضح فرمائیں ۔

جواب

صورت ِ مسئولہ میں  بیوہ کی  میراث اس کے بہن بھائیوں  میں تقسیم ہوگی ،جس میں بھائیوں کو بہنوں کے مقابلے میں دوگناحصہ ملے گا۔اگر صرف ایک بھائی اور ایک بہن ہے تو بھائی کو دو حصے اور بہن کو ایک  حصہ ملے گا ،اور بہن بھائیوں کی موجودگی میں چچا زاد  محروم ہوں گے ۔فقط

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144410100969
تاریخ09-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں