بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک طلاق کے بعد عدت ختم ہونے کی صورت میں نکاح کا حکم

سوال

کسی شخص نے ایک طلاق دی اور 3مہینے اپنی بیوی سے ملےبغیر  گزر گئے،  اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر ایک طلاق کے بعد عدت تین ماہواری گزر چکی ہو تو اس سے نکاح ٹوٹ گیا اب رجوع جائز نہیں،  البتہ باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے اور اگر طلاق کے وقت مطلقہ حاملہ تھی توطلاق رجعی کی صورت میں بچے کی ولادت سے پہلے پہلے رجوع ہوسکتا ہے،  ولادت سے عدت پوری ہو جائے گی نکاح ٹوٹ جائے گا ۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"فان طلقھا ولم یراجعھا بل ترکھا حتی انقضت عدتھا بانت وھذاعندنا."

(كتاب الطلاق، فصل في بيان حكم الطلاق، ج: 3، ص: 180، ط: سعید)

مبسوطِ سرخسی میں ہے:

"‌ولو ‌تزوجها ‌قبل ‌التزوج، ‌أو ‌قبل ‌إصابة الزوج الثاني، كانت عنده بما بقي من التطليقات."

(كتاب الطلاق، باب من الطلاق، ج: 6، ص: 112، ط: دار الكتب العلمية)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144410100968
تاریخ09-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں