بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چیک کی شرعی حیثیت

سوال

 زید نے اپنی بیوی کو اس کے نام ایک چیک دیا اور دیتے وقت کوئی وضاحت نہیں کی کہ یہ کس مد میں ہے۔ کچھ دنوں کے بعد ان کی وفات ہو گئی اور چیک ان کی زندگی میں کیش   نہ ہو سکا۔ وضاحت طلب امر یہ ہے کہ اس چیک کی حیثیت کیا ہو گی ؟ دو  کی ملکیت ہو گا یا ترکہ وراثت میں شمار ہو گا؟

جواب

واضح رہے کہ بینک کے چیک کی حیثیت کرنسی کی رسید کی ہے، لینے والا جب تک چیک کیش نہ کرالے یا اپنے اکاونٹ میں رقم منتقل نہ کرلے،  وہ رقم دینے والے ہی کی ملکیت سمجھی جائےگی، لہذا صورتِ مسئولہ میں زید نے اپنی بیوی کو بغیر کسی صراحت کے جو  چیک دیا ہے وہ زید کی ملکیت شمار ہوکر ترکہ میں شامل ہوگا۔  

فتاوی شامی  ميں ہے:

"(و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) .... وفي الأشباه: هبة المشغول لا تجوز."

( كتاب الهبة،ج:5، ص:688، ط:سعيد)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية".

(  الباب الثانی فیما یجوز من الھبۃ وما لا یجوز،ج:4 ، ص:378، ط؛ رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144410100813
تاریخ07-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں