بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والد کے گھر کی تعمیر میں پیسے ملا کر ترکہ سے وصول کرنا

سوال

والد کی وفات کے بعد گھر بیچنے  کے متعلق  ایک سوال ہے ،والد جب حیات تھے تو  گھر پر ایک    نئی منزل تعمیر ہوئی ،جس میں ایک بیٹے نے پیسے لگائےتو کیا  تقسیم کے وقت وہ پیسے الگ کیے جا سکتے ہیں یا مکمل گھر مع نئی تعمیر  میراث میں تقسیم ہوگا ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  اگر بیٹے نے پیسے لگاتے وقت اس بات کی صراحت کی تھی کہ یہ بطور قرضہ ہے یا یہ کہ ان پیسوں کا عوض میں لوں گا تو اس مذکورہ گھر میں سے اپنا خرچہ الگ کر سکتے ہیں ،اگر اس طرح کی کوئی صراحت نہیں کی تھی تو پورا گھر والد کی میراث میں شمار ہوگا ۔

شرح مجلۃ الاحکام  لعلي حيدر میں ہے:

"أما ‌إذا ‌بنى ‌للشركة بدون إذن شريكه فيكون البناء مشتركا والباني متبرعا بمصرفه على البناء وليس له الرجوع على شريكه بحصته من المصرف."

(الكتاب العاشر الشركات،باب في بيان القسمة،الفصل الثامن في بيان أحكام القسمة،(المادة 1173) بنى أحد الشركاء لنفسه في الملك بدون إذن الآخرين،ج3،ص181،ط:دار الجيل)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144410100789
تاریخ07-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں