بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تصویر ڈاون لوڈ کرنے کا حکم

سوال

اگر کوئی بندہ   کسی  کی ویڈیو ڈاؤن لوڈ کرتا ہے، جس میں وه کعبہ کا طواف کر رہے ہیں اور نماز پڑھ  رہے ہیں تو  کیسا ہے ، جائز ہے یا ناجائز ہے؟

جواب

کسی بھی جان دار کی ویڈیو ڈاؤن لوڈ کرنا  نا جائز ہے۔

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"عن أبي طلحة - رضي الله عنه - قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: " «لاتدخل الملائكة بيتًا فيه كلب، و لا تصاوير» ". متفق عليه."

(کتاب اللباس ، باب التصاویر، ج نمبر: ۷، ص نمبر: ۲۸۴۷، دار الفکر)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"وعن عائشة - رضي الله عنها - «أن النبي - صلى الله عليه وسلم - لم يكن يترك في بيته شيئا فيه تصاليب إلا نقضه» . رواه البخاري."

(کتاب اللباس ، باب التصاویر، ج نمبر: ۷، ص نمبر: ۲۸۴۹، دار الفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الخلاصة وتكره التصاوير على الثوب صلى فيه أو لا انتهى، وهذه الكراهة تحريمية. وظاهر كلام ‌النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ فينبغي أن يكون حرامًا لا مكروهًا إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل بتواتره اهـ كلام البحر ملخصًا."

(کتاب الصلاۃ باب ما یفسد الصلاۃ ج نمبر ۱ ص نمبر ۶۴۷،ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144410100766
تاریخ07-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں