بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے دوسرے پورشن میں لڑکیوں کا مدرسہ بنانا

سوال

مسجد کےدوسرےپورشن پے لڑکیوں کےلئےمدرسہ بنانےکاشرعی حکم کیا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مسجد کے دوسرے پورشن پر لڑکیوں کا مدرسہ  بنانا جائز نہیں ہے، اس لئے کہ جس زمین پر ایک مرتبہ شرعی مسجد بن جائے تو وہ تحت الثری(زمین کی تہہ) سے اوپر آسمان تک  قیامت تک کے لیے مسجد رہتی ہے، لہذا مسجد کی چھت مسجد ہی کے حکم میں ہے، اور مسجد میں مستقل مدرسہ  یا اسکول بنانا جائز نہیں ہے۔

فتاوی هنديه میں ہے:

"البقعة الموقوفة على جهة إذا بنى رجل فيها بناء ووقفها على تلك الجهة يجوز بلا خلاف تبعًا لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه، والأصح أنه لايجوز، كذا في الغياثية".

( الفتاویٰ الهندية، كتاب الوقف،الباب الثانی فیما یجوز وقفہ 2 / 362، ط: رشیدیہ)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144410100555
تاریخ04-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں