بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

برجس قدر نام رکھنا درست نہیں

سوال

میرا نام "برجس قدر" ہے اور میں اسے تبدیل کرکے "انس سلیم" رکھنا چاہتا ہوں، اس نام کے بارے میں میں پہلے آپ کے دارالافتاء  سے فتویٰ (جس کا نمبر 144408101342 ہے) لے چکا ہوں ، مگر اُس میں لکھا تھا کہ  "برجس قدر" کا  صحیح تلفظ "برجیس قدر" ہےاور اس کے معنیٰ درست ہیں، لیکن  بات دراصل یہ ہے کہ میرا نام "برجیس قدر" نہیں، بلکہ "برجس قدر" ہے اور میں اسی تلفظ کے ساتھ اس نام کا معنیٰ شریعت کی روشنی میں جاننا چاہتا ہوں؛ کیوں کہ نام تبدیل کرنے کے لیے کورٹ کے جج کہہ رہے ہیں کہ آپ اپنے اسی  نام کے بارے میں فتویٰ لے کر آئیں، ورنہ  بصورتِ دیگر آپ کو نام تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ لہٰذا براہ کرم میری راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

"بر جس قدر" ایک مہمل لفظ ہے، اردو،عربی، اور فارسی زبانوں  میں اس لفظ کا کوئی معنیٰ نہیں مل سکا، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کا نام  اگر "برجس قدر" ہے، تو اُسے چاہیے کہ وہ یہ نام تبدیل کرکے کوئی اسلامی نام رکھ لے۔ نیز اگر سائل اپنا مذکورہ نام تبدیل کرکے "انس سلیم" رکھنا چاہتا ہے تو یہ بھی درست ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144410100487
تاریخ03-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں