بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر کسی کے پاس جعلی نوٹ آجائے تو کیا اسے آگے دے سکتے ہیں ؟

سوال

اگر کسی کو کوئی جعلی نوٹ دے جس کا اسے پتہ نہ چلے اور جب پتہ چلےاور  یہ یاد نہ رہے کہ کس نے اسے دیا ہے تو اسے کیا کرنا چاہیئے؟ مثلا اگر نوٹ 5000 کا ہو تو اتنے پیسے آدمی کا ضائع کرنا (یعنی ایسا نوٹ آگے کسی کو نہ دینا) ایک مشکل کام ہے۔

جواب

واضح رہے کہ کسی کو جعلی نوٹ دینا  جعل سازی، دھوکا اور فراڈ  ہونے کی وجہ سے شرعاً اور قانوناً  ناجائز اور حرام ہے،  اگر آپ کو کسی نے جعلی نوٹ دے کر دھوکا دیا ہے تو اس بنا پر شرعاً  آپ کے لیے کسی اور کو دھوکا دینا قطعاً جائز نہیں ہے،لہذا ایسے امور میں ایمان والوں کو اللہ تعالی سے اچھے بدلے کی امید رکھنی چاہیے ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"رد العدليات من له بصارة على أنها زيف فليس له أن يدفع  إلى من يأخذها مكان الجيدة لأنه تلبيس وغدر كذا في القنية."

(كتاب الكراهية،الباب السابع والعشرون في القرض والدين،ج5،ص367،ط:المطبعة الكبرى الأميرية)

مسند امام احمدؒ میں ہے :

"وعن أبي أمامة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب." 

ترجمہ:" مومن ہر خصلت پر ڈھل سکتا ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے.۔"

(‌‌تتمة مسند الأنصار،حديث أبي أمامة الباهلي الصدي بن عجلان بن عمرو،ج36،ص504،رقم:22170،ط:مؤسسة الرسالة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144410100378
تاریخ02-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں