بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ارید ان اتلو القرآن کی ترکیب

سوال

اريدان اتلو القرآن کی ترکیب کیا ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ دار الافتاء میں شرعی مسائل کا جواب دیا جاتا ہے،نہ کہ نحو و صرف کے قواعد اور اس کی ترکیبیں۔ لہٰذا آئندہ  سائل کو چاہئے کہ دار الافتاء سے متعلقہ سوال پوچھا کریں۔

أُرِيْدُ فعل مضارع مفرد صحیح مرفوع بضمہ لفظی، اس میں أَنَا ضمیر ضمیرِ مرفوع متصل واجب الاستتار محلّاً مرفوع فاعل، أَنْ حرفِ ناصب مصدریہ،أَتْلُوَ فعلِ مضارع مفرد ناقصِ واوی منصوب باَن ناصبہ،اس میں أَنَا  ضمیر ضمیرِ مرفوع متصل واجب الاستتار  محلّاً مرفوع فاعل، اَلْقُرْآنَ مفرد منصرف صحیح منصوب فتحہ لفظی کے ساتھ مفعولِ بہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سمیت جملہ فعلیہ خبریہ بتاویل مصدر مفعولِ بہ برائےأُرِيْدُفعل ، أُرِيْدُفعل اپنے فاعل اور مفعولِ بہ سمیت جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ 

إعراب القرآن وبيانه للدرویش میں ہے:

" وَأَنْ أَتْلُوَا الْقُرْآن...

وأن أتلو عطف على أن أكون أي وأمرت بأن أتلو والقرآن مفعول به ".

(سورۃ النمل، رقم الآیۃ:92، ج:7، ص:267، ط:دارالارشاد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144410100311
تاریخ01-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں