بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نکاح کی غرض سے کسی بزرگ کی طرف سفر کرنا

سوال

 صرف نکاح کی  غرض سے کسی بزرگ کے پاس 650 کلومیٹر کا سفر طے کرکے جانا،  جس میں پندرہ سے بیس ہزار روپے خرچ آتا ہو، سنت وشریعت کے رو سے یہ عمل کیسا ہے ؟کہاں تک درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اپنے  شیخ کی زیارت  کی غرض سے  دور دراز کا سفر کرنا اور ان سے نکاح پڑھوانا جائز ہے، تاہم  اس میں کثیر مال خرچ کرنے سے بچنا چاہیے، کیوں کہ اللہ کے رسول ﷺ کے ارشاد کا مفہوم ہےکہ:  برکتوں والا نکاح وہ ہے ،جس کے اخراجات کم ہو۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن عائشة قالت: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «‌إن ‌أعظم ‌النكاح بركة أيسره مؤنة»."

(کتاب النکاح، الفصل الثالث، ج:2، ص:930، ط:المكتب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144410100297
تاریخ01-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں