بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مکئی کی فصل کو اٹکل سے بیچنا

سوال

مکئی  کی فصل  کی اٹکل سے خرید و فروخت کا شرعی حکم بتادیجیے!

 

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر فصل موجود  ہے  تو اندازے سے بیچنا جائز ہے ۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"ولو باع قفيزا من هذه الصبرة أو عشرة دراهم من هذه النقرة جاز؛ لأنه لا يتضرر بالفصل والتمييز وكذا لو باع القوائم على رءوس الأشجار......أو الزرع أو البقول القائمة قبل الجذ أنه يجوز؛ لأنه يمكنه تسليم هذه الأشياء من غير ضرر."

(کتاب البیوع , فصل فی شرائط الصحة فی البیوع جلد 5 ص: 168 ط: دارالکتب العلمیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"لأن ‌المشار ‌إليه مبيعا كان أو ثمنا لا يحتاج إلى معرفة قدره."

(کتاب البیوع جلد 4 ص: 530 ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم 

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144410100287
تاریخ01-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں