بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض دے کر نفع لینا

سوال

فریق اول نےپراپرٹی کے کاروبار کے لئے  فریق دوم سے 25 لاکھ روپے قرض لیا  اور بطور ضمانت 42 لاکھ کے پلاٹس کی فائلیں رکھوائیں ، اور یہ شرط لگائی کہ دو ماہ بعد 42 لاکھ روپے واپس لوٹاؤں گا ، فریق اول مقررہ وقت پر رقم ادا نہ کر سکا اور 6 ماہ گزر گئے اور اب فریق دوم 75 لاکھ کا مطالبہ کر رہا ہے ، کہ یہ میرا منافع ہے ، کرنٹ رقم کے ساتھ منافع بھی واپس لینا ہے ، کاغذی کارروائی کے طور پر اسٹامپ لکھا ہوا ہے ۔

اب راہ نمائی فرمائیں فریق اول اور دوم کو کیا کیا کرنا چاہیے؟ اسٹامپ کا عکس ای میل کر رہا ہوں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں فریق اول نے جو 25لاکھ کا قرضہ اس شرط پر لیا تھا، کہ دو ماہ بعد فریق اول 42لاکھ روپے فریق ثانی کو واپس لو ٹائےگا، شرعاًیہ معاہدہ ہی سود کا ہے، جو حرام  ہے، لہذا فریق اول نےجتنا قرضہ فریق ثانی سے لیا تھا اتنا ہی لوٹانےکاپابند ہےاس سے زائد کالین دین جائز نہیں  ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"‌كل ‌قرض ‌جر ‌نفعا حرام."

(كتاب البيوع، فصل في القرض، ج:٥، ص:١٦٦، ط:سعيد)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144410100277
تاریخ01-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں