بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

درود شریف تعداد مقرر کرکے پڑھنا چاہیے یا جتنا پڑھ سکیں پڑھیں؟

سوال

 درود شریف تعداد مقرر کرکے پڑھنا چاہیے یا جتنا پڑھ سکیں پڑھیں الحمدللہ میں روزانہ دس ہزار بار پڑہنے کے بعد مزید بھی پڑھتا رہتا ہوں کیا میرا یہ عمل درست ہے ؟

جواب

درود شریف گن کر پڑھنا بھی درست ہے اور بغیر گن کر کثرت سے درود شریف پڑھنا بھی درست ہے،باقي درود شریف پڑھنے کی کوئی حد نہیں ہے، جتنا پڑھنا میسر ہوجائے ،اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ خوش نصیبی ہے۔

شعب الایمان للبیھقی میں ہے:

"قال علي: من صلى على النبي صلى الله عليه وسلم يوم الجمعة مائة مرة جاء يوم القيامة وعلى وجهه من النور نور يقول الناس أي شيء كان يعمل هذا".

(الصلوات،‌‌فضل الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم،ج:3،ص:112،رقم:3036،ط:‌‌ دار الكتب العلمية،بيروت)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"عن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أولى الناس بي يوم القيامة ‌أكثرهم ‌علي ‌صلاة".

(كتاب الصلاة،‌‌باب الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم وفضلها،ج:2،ص:743،رقم:923،ط: دار الفكر، بيروت)

تو ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ دونوں طریقے جائز ہیں۔

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144410100255
تاریخ01-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں